نئی دہلی، 20؍جون(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا )وزیراعلیٰ اروند کیجریوال نے مشرقی دہلی سے بی جے پی ایم پی مہیش گری کو این ڈی ایم سی کے مرحوم وکیل ایم ایم خان کے قتل کے سلسلے میں گرفتار کئے جانے کا آج مطالبہ کیا اوروزیر اعظم پر انہیں بچانے کا الزام لگایا۔اس درمیان کجریوال کی رہائش گاہ کے باہر گری کی بھوک ہڑتال آج دوسرے دن بھی جاری ہے۔بی جے پی ایم پی کا مطالبہ ہے کہ کیجریوال خان کے قتل کے سلسلے میں ان پر لگائے جا رہے اپنے الزامات کو ثابت کریں۔بی جے پی ممبر پارلیمنٹ نے کیجریوال سے کہا ہے کہ یا تو وہ اپنے الزامات کو ثابت کریں یاوزیراعلیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دیں۔ایک ٹوئٹ میں کیجریوال نے مطالبہ کیا کہ مہیش گری کوگرفتار کیا جانا چاہیے ۔انہوں نے کہاکہ ایم ایم خان کے قتل کے معاملے میں انہیں گرفتار کر کے ان سے پوچھ گچھ کی جانی چاہیے ۔مودی پولس انہیں بچا رہی ہے۔لیفٹیننٹ گورنر نجیب جنگ کو لکھے ایک خط میں کیجریوال نے ان پر مہیش گری اور نئی دہلی میونسپل کارپوریشن(این ڈی ایم سی )کے نائب صدر کرن سنگھ تنو ر کو خان کے قتل کے معاملے میں بچانے کی کوشش کرنے کاالزام لگایا ہے۔مہیش گری نے کیجریوال سے کہا ہے کہ وہ ان پر لگائے جا رہے الزامات پر عوامی طور پر بحث کریں۔واضح رہے کہ کیجریوال کو 16؍جون کو لکھے ایک خط میں مہیش گری نے انہیں ایم ایم خان کے قتل کے معاملے میں اپنے خلاف ثبوت اتوار کی شام چار بجے کانسٹی ٹیوشن کلب میں آ کر دینے کے لیے مدعو کیا ہے ،لیکن کیجریوال نے مہیش گری کے اس چیلنج کونظرانداز کردیا جس کے بعد بی جے پی لیڈر اپنے حامیوں کے ساتھ فلیگ اسٹاف روڈ پر واقع وزیراعلیٰ کیجریوال کی رہائش گاہ پر پہنچے اور بھوک ہڑتال پر بیٹھ گئے۔این ڈی ایم سی میں اسٹیٹ افسر خان کو 16؍مئی کو جامعہ نگر علاقے میں گولی مارکرہلاک کر دیا گیا تھا ۔جن دن انہیں گولی ماری گئی، اس کے اگلے دن وہ میونسپل کارپوریشن کی طرف سے لیز پر دی ہوئی زمین پر بنے ایک ہوٹل کی لیز سے متعلق شرائط پر آخری حکم جاری کرنے والے تھے۔